ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مرکزی حکومت 'جموں و کشمیر مخالف پالیسی' میں تبدیلی لائے: نیشنل کانفرنس

مرکزی حکومت 'جموں و کشمیر مخالف پالیسی' میں تبدیلی لائے: نیشنل کانفرنس

Sun, 19 Jul 2020 13:14:13    S.O. News Service

سری نگر،19؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی)  جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر اور لداخ میں جہاں نظر دوڑائی جائے وہاں عام آدمی تذبذب اور غیر یقینیت کا شکار ہے، تینوں خطوں کے طول و ارض میں بے چینی ہی بے چینی نظر آرہی ہے اور ہر جگہ لوگ اپنے اور اپنے وطن کے مستقبل کو لے کر مایوسی اور تشویش میں مبتلا ہے کیونکہ بقول ان کے نئی دہلی کے رویہ سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ مرکز کو جموں وکشمیر کے عوام سے نہیں بلکہ یہاں کی زمین چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے رویہ سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ یہ لوگ جموں و کشمیر کے بہتر اور روشن مستقبل کے تئیں سنجیدہ نہیں، یہ لوگ ہمارا وجود ختم کرنے کے لئے کام کررہے ہیں، اس گھناونی پالیسی میں تبدیلی آنی چاہیے، ملک ایک جسم کی مانند ہوتا ہے اور اگر جسم کے کسی بھی حصے میں درد یا تکلیف ہوتی ہے تو اس کا اثر سارے جسم پر پڑتا ہے، اسی طرح اگر جموں وکشمیر کو زخم دیئے گئے تو اس کا منفی اثر پورے ملک پر پڑے گا۔

ڈاکٹر کمال کا کہنا تھا کہ ایک جمہوری ملک میں کسی ریاست کے جمہوری حقوق سلب کر کے تاناشاہی پر مبنی نظام مسلط کرنے سے جمہویت تار تار ہوجاتی ہے اور ایسا ہی کچھ جموں و کشمیر میں کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ 2 سال سے مرکزی حکومت نئی دہلی سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے یہاں اپنی من مانی چلا رہی ہے اور اس طریقہ کار سے جموں وکشمیر کے عوام بددل اور انتہائی مایوس ہوگئے ہیں۔

مرکزی حکومت کی سخت گیر پالیسی کی وجہ سے نوجوان سخت فیصلے لے کر ملی ٹنسی کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کا خاتمہ کر کے حالات سدھارنے کے تمام دعوے سراب ثابت ہوئے ہیں اس لئے نئی دہلی کو یہاں امن و سکون لانے کے لئے پہل کرنی چاہیے۔

معاون جنرل سکریٹری نے کہا کہ مرکزی حکومت کو وقت رہتے تمام غیر جمہوری اور غیر آئینی فیصلوں کو منسوخ کر کے یہاں جمہوری نظام قائم کرنے کے لئے پہل کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ آبادی والے علاقوں سے فوج اور فورسز کی موجودگی کم کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام سلجھے ہوئے ہیں اور مرکزی حکومت کو یہاں کے عوام کا اعتماد اور بھروسہ بحال کرنے کے لئے ٹھوس اور فوری اقدامات اٹھانے چاہیے۔ اُمید ہے حالات و واقعات اور زمینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے بھاجپا کی مرکزی حکومت اپنی غلطی کو سدھارنے کی شروعات کرے گی۔


Share: